(۳۶۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ جَبَلَۃَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الصَّلاَۃِ عَلَی الْمَرْوَحَۃِ فَقَالَ: لاَ تَتَّخِذُ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ ، أَوْ قَالَ: لاَ تَتَّخِذُ لِلَّہِ أَنْدَادًا ، صَلِّ قَاعِدًا وَاسْجُدْ عَلَی الأَرْضِ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِیمَائً ، وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّکُوعِ۔ [صحیح۔ ہذا اسناد صحیح متصل]
(٣٦٧٢) حضرت جبلہ (رح) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) سے کسی نے تکیے پر نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا، میں بھی سن رہا تھا، انھوں نے فرمایا : اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ یا فرمایا : اللہ کے ساتھ شریک نہ بناؤ اور بیٹھ کر نماز پڑھو اور زمین پر سجدہ کرو۔ اگر اس کی ہمت نہ ہو تو اشارے سے رکوع و سجود کرو اور سجدوں میں رکوع سے زیادہ نیچے جھکو۔