(۳۶۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَنَّہُ ذُکِرَ عِنْدَہَا مَا یَقْطَعُ الصَّلاَۃَ ، فَقَالُوا: یَقْطَعُہَا الْکَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَۃُ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: قَدْ جَعَلْتُمُونَا کِلاَبًا لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی وَإِنِّی لَبَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ ، وَأَنَا مُضْطَجِعَۃٌ عَلَیَ السَّرِیرِ ، فَیَکُونُ لِی الْحَاجَۃُ فَأَکْرَہُ أَنْ أَسْتَقْبِلَہُ فَأَنْسَلُّ انْسِلاَلاً۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ الْخَلِیلِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ تقدم تخریجہ فی الحدیث برقم ۳۴۹۷]
(٣٦٩٧) حضرت مسروق (رض) ، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس ان چیزوں کا ذکر کیا گیا جو نماز توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کہا : نماز کو کتا، گدھا اور عورت توڑ دیتے ہیں۔ سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : تم نے تو ہم (عورتوں) کو کتوں کے ساتھ ملا دیا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور قبلہ کے درمیان چار پائی پر لیٹی ہوتی تھی، جب مجھے کوئی حاجت پیش آتی تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لیٹنا ناپسند سمجھتی اور میں چپکے سے چلی جاتی۔