(۳۷۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ الطَّیِّبِ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِیہِ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَأَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ السَّبِیعِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْعَتَمَۃَ فَقَرَأَ {إِذَا السَّمَائُ انْشَقَّتْ} فَسَجَدَ فَقُلْتُ لَہُ: مَا ہَذِہِ السَّجْدَۃُ؟ فَقَالَ: سَجَدْتُ بِہَا مَعَ أَبِی الْقَاسِمِ -ﷺ- فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِہَا حَتَّی أَلْقَاہُ۔
قَالَ عِیسَی بْنُ یُونُسَ: الْعِشَائُ ، وَقَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَوْ قُلْتَ: مَا ہَذِہِ؟ قَالَ: سَجَدَ بِہِ فَذَکَرَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ کَمَا تَقَدَّمَ۔
[صحیح۔ تقدم برقم ۳۷۱۹]
(٣٧٥٨) (ا) حضرت ابورافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کے ساتھ نماز عشا پڑھی۔ آپ نے سورة انشقاق کی تلاوت کی اور سجدہ کیا۔ میں نے کہا : یہ کون سا سجدہ ہے ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا ہے اور میں ہمیشہ کرتا رہوں گا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جا ملوں۔
(ب) حضرت عیسیٰ بن یونس (رح) کی روایت میں ” العتمۃ “ کی جگہ ” العشاء “ کا لفظ ہے اور فرمایا : جب نماز سے سلام پھیرا تو کہا : اے ابوہریرہ ! یہ کیا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : یہ سجدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کیا ہے۔