(۳۸۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْمَکِّیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کُنْتُ أُذَاکِرُ عُمَرَ شَیْئًا مِنَ الصَّلاَۃِ ، فَأَتَی عَلَیْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: أَلاَ أُحَدِّثُکُمَا حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قُلْنَا: بَلَی۔ قَالَ: أَشْہَدُ شَہَادَۃَ اللَّہِ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فِی شَکٍّ مِنَ النُّقْصَانِ فِی صَلاَتِہِ فَلْیُصَلِّ حَتَّی یَکُونَ فِی شَکٍّ مِنَ الزِّیَادَۃِ))۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَکِّیِّ ، وَرَوَاہُ أَیْضًا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ بَحْرِ بْنِ کَثِیرٍ السَّقَّائِ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔
[صحیح لغیرہ۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٨٠٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس نماز کے کسی مسئلہ کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ اس دوران حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) ہمارے پاس تشریف لائے اور انھوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور سنائیے۔ انھوں نے فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں کسی کمی کا شک ہوجائے تو وہ نماز کو اس ترتیب پر پڑھے کہ شک زیادہ میں ہوجائے۔