(۳۸۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: سَلَّمَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی ثَلاَثِ رَکَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَۃَ ، فَقَامَ الْخِرْبَاقُ رَجُلٌ بَسِیطُ الْیَدَیْنِ فَنَادَی: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ؟ فَخَرَجَ مُغْضِبًا یَجُرُّ رِدَائَ ہُ ، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ ، فَصَلَّی تِلْکَ الرَّکْعَۃَ الَّتِی کَانَ تَرَکَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الثَّقَفِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۵۷۴]
(٣٨١٧) حضرت عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز کی صرف تین رکعتیں پڑھیں، اس کے بعد گھر تشریف لے گئے۔ حضرت خرباق (رض) کھڑے ہوئے۔ ذوالیدین پکاررہا تھا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصے میں چادر گھسیٹتے ہوئے نکل آئے اور لوگوں سے پوچھا، انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو رکعت رہ گئی تھی وہ ادا کی۔ پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کر کے دوبارہ سلام پھیرا۔