(۳۸۳۳) قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَۃَ الأَنْصَارِیُّ ثُمَّ الزُّرَقِیُّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ خَرَجُ الشَّیْطَانُ مِنَ الْمَسْجِدِ لَہُ حُصَاصٌ ، فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ رَجَعَ ، فَإِذَا أَقَامَ الْمُؤَذِّنُ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَلَہُ ضُرَاطٌ ، فَإِذَا سَکَتَ رَجَعَ حَتَّی یَأْتِیَ الْمَرْئَ الْمُسْلِمَ فِی صَلاَتِہِ فَیَدْخُلُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ نَفْسِہِ ، لاَ یَدْرِی أَزَادَ فِی صَلاَتِہِ أَوْ نَقَصَ فَإِذَا وَجَدَ ذَلِکَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ ثُمَّ یُسَلِّمُ))۔
وَرَوَاہُ ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ وَالأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ دُونَ ہَذِہِ الزِّیَادَۃِ وَرَوَاہُ عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ یَحْیَی فَذَکَرَہَا۔ [شاذ۔ قال ابن رجب فی الفتح ۷/ ۲۲۵]
(٣٨٣٣) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب موذن اذان کہتا ہے تو شیطان مسجد سے بھاگ جاتا ہے ، اس کے لیے ہوا کی آواز ہوتی ہے۔ پھر جب مؤذن چپ ہوجاتا ہے تو پھر آجاتا ہے، پھر جب موذن اقامت کہتا ہے تو پھر مسجد سے گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے حتیٰ کہ وہ دوران نماز مسلمان آدمی کے پاس آکر اس کے اور اس کے دل میں حائل ہوتا ہے اور آدمی کو پتا نہیں چلتا کہ کیا نماز میں کوئی زیادتی کر بیٹھا ہے یا کوئی کمی کر گیا ہے۔ جب تم میں سے کسی کے ساتھ یہ صورت پیش آئے تو وہ سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے ہوئے دو سجدے کرے۔