(۳۸۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدُوَیْہِ بْنِ سَہْلٍ الْمُطَّوَعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حَمَّادٍ الآمُلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْعَنْسِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ سَہْوَ فِی وَثْبَۃِ الصَّلاَۃِ إِلاَّ قِیَامٌ عَنْ جُلُوسٍ، أَوْ جُلُوسٌ عَنْ قِیَامٍ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ الدَّارِمِیِّ وَفِی حَدِیثِ الآمُلِیِّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ وَہَذَا حَدِیثٌ یَنْفَرِدُ بِہِ أَبُو بَکْرٍ الْعَنْسِیُّ۔ (ج) وَہُوَ مَجْہُولٌ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الدار قطنی فی سننہ ۱/ ۳۷۸/ ۲]
(٣٨٥٣) سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معمولی سا اوپر اٹھنے پر سجدہ سہو نہیں پڑتا بلکہ بیٹھنے کے بجائے کھڑا ہونے سے یا کھڑے ہونے کے بجائے بیٹھ جانے سے سہو کا سجدہ لازم آتا ہے۔