(۳۹۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِیَ أَرْضَ الْحَبَشَۃِ ، فَیَرُدُّ عَلَیْنَا وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مَنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ أَتَیْتُہُ لأُسَلِّمَ عَلَیْہِ ، فَوَجَدْتُہُ یُصَلِّی فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ ، فَأَخَذَنِی مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ ، فَجَلَسْتُ حَتَّی إِذَا قَضَی صَلاَتَہُ أَتَیْتُہُ فَقَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ یُحْدِثُ مِنْ أَمْرِہِ مَا یَشَائُ ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ اللَّہُ أَنْ لاَ تَکَلَّمُوا فِی الصَّلاَۃِ))۔
وَقَدْ مَضَی فِی ذَلِکَ حَدِیثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَزِیدِ بْنِ أَرْقَمَ۔
وَذَلِکَ کُلُّہُ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَی الْعَمْدِ۔ [حسن۔ اخرجہ الحمیدی ۹۴]
(٣٩٠٣) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہوتے تو بھی ہم انھیں سلام کیا کرتے تھے، حبشہ سے واپس ہونے سے پہلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے۔ جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سلام کرنے آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہا، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ میں بیٹھ گیا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔
(ب) اس بارے میں جابر بن عبداللہ اور زید بن ارقم (رض) کی حدیث گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک ان سب کو قصداً کلام (کی ممانعت) پر محمول کیا جائے گا۔