(۴۰۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحَمْنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ مَوْلَی سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ نُسَیٍّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ قَیْسَ بْنَ الْحَارِثِ یَقُولُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیُّ: أَنَّہُ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فِی خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَصَلَّی وَرَائَ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ الْمَغْرِبَ ، فَقَرَأَ أَبُو بَکْرٍ فِی الْمَغْرِبِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَۃٍ سُورَۃٍ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ ، ثُمَّ قَامَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّالِثَۃِ - قَالَ - فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتَّی إِنَّ ثِیَابِی لَتَکَادُ تَمَسُّ ثِیَابَہُ ، فَسَمِعْتُہُ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَہَذِہِ الآیَۃِ {رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ} [آل عمران: ۸]۔
[صحیح أخرجہ مالک وعبد الرزاق ۲/۱۰۹/۱۶۹۸]
(٤٠٣١) قیس بن حارث بیان کرتے ہیں : مجھے ابو عبداللہ صنابحی نے خبر دی کہ وہ ابوبکر صدیق (رض) کے دور خلافت میں مدینہ آئے تو انھوں نے سیدنا ابوبکر (رض) کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی۔ ابوبکر صدیق (رض) نے مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور قصار مفصل میں سے ایک سورت پڑھی۔ پھر تیسری رکعت میں کھڑے ہوئے۔ ابو عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں ان کے اتنا قریب ہوگیا کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں کو چھونے کے قریب تھے تو میں نے انھیں سو رہ فاتحہ اور یہ آیت مبارکہ پڑھتے سنا : { رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ } [آل عمران : ٨] اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا کر ۔ یقیناً تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔