(۴۰۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِیلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ مَرْوَانَ قَالَ قَالَ لِی زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا لَکَ تَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ؟ لَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِطُولَی الطُّولَیَیْنِ۔ قَالَ فَقُلْتُ لِعُرْوَۃَ: مَا طُولَی الطُّولَیَیْنِ؟ قَالَ: الأَعْرَافُ۔ قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ: مَا طُولَی الطُّولَیَیْنِ؟ قَالَ: الأَنْعَامُ وَالأَعْرَافُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ النَّبِیلِ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۶۹۱]
(٤٠٣٦) مروان بن حکم (رض) سے روایت ہے کہ زید بن ثابت (رض) نے مجھے کہا : کیا وجہ ہے کہ تم مغرب میں قصدا چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے ہو ؟ آپ سے پہلے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مغرب کی نماز میں لمبی لمبی سورتیں پڑھتے دیکھا ہے۔ میں نے عروہ سے پوچھا : وہ لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں ؟ انھوں نے کہا : ” اعراف “ ابن جریح فرماتے ہیں : میں نے ابن ابی ملیکہ سے دریافت کیا کہ وہ لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں ؟ تو انھوں نے بتایا : انعام اور اعراف۔