(۴۰۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ: الْعَنْبَرُ بْنُ الطَّیِّبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّہُ قَالَ: صَلَّی مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الأَنْصَارِیُّ لأَصْحَابِہِ الْعِشَائَ فَطَوَّلَ عَلَیْہِمْ ، فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَصَلَّی ، فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْہُ فَقَالَ: إِنَّہُ مُنَافِقٌ۔ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِکَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ بِمَا قَالَ لَہُ مُعَاذٌ۔ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَتُرِیدُ أَنْ تَکُونَ فَتَّانًا یَا مُعَاذُ؟ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ فَاقْرَأْ بِالشَّمْسِ وَضُحَاہَا وَ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} {وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَی} وَ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ}
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۱۰۶]
(٤٠٣٨) جابر (رض) بیان کرتے ہیں : معاذ بن جبل (رض) نے اپنے مقتدیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی تو اس کی قرآت لمبی کردی۔ ہم میں سے ایک شخص نماز چھوڑ کر چلا گیا۔ سیدنا معاذ (رض) کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انھوں نے فرمایا : وہ منافق ہے۔ جب اس آدمی کو اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت معاذ (رض) کے اس قول کے بارے میں بتایا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ (رض) کو فرمایا : اے معاذ ! کیا تو لوگوں کو فتنے میں ڈالنا چاہتا ہے ؟ جب تو لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو تو { والشمس }، { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } ، { وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَی } اور { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ } پڑھا کر۔