(۴۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ یَعْنِی ابْنَ أَبِی خَالِدٍ عَنْ زِیَادٍ یَعْنِی مَوْلَی بَنِی مَخْزُومٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ عَنِ الْوُضُوئِ فَقَالَ: أَبْدَأُ بِالْیَمِینِ أَوْ بِالشِّمَالِ؟ فَأَضْرَطَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِہِ ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ ، فَبَدَأَ بِالشِّمَالِ قَبْلَ الْیَمِینِ۔
(ت) وَرَوَاہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ عَنْ زِیَادٍ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: مَا أُبَالِی لَوْ بَدَأْتُ بِالشِّمَالِ قَبْلَ الْیَمِینِ إِذَا تَوَضَّأْتُ۔
وَرَوَاہُ عَوْفٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ہِنْدٍ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: مَا أُبَالِی إِذَا أَتْمَمْتُ وُضُوئِی بِأَیِّ أَعْضَائِی بَدَأْتُ۔
(ق) وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ مُرَادُہُ بِمَا أَطْلَقَ فِی ہَذَا مَا فَسَّرَہُ فِی رِوَایَۃِ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ عَلَی أَنَّہُ مُنْقَطِعٌ۔
رَوَی أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنِ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ہِنْدٍ ہَذَا الْحَدِیثَ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَوْفٌ وَلَمْ یَسْمَعْہُ مِنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۸۸]
(٤٠٦) (الف) بنی مخزوم کے غلام زیاد فرماتے ہیں : ایک شخص سیدنا علی (رض) کے پاس آیا اور وضو کے متعلق سوال کیا تو سیدنا علی (رض) نے فرمایا : دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے شروع کر، علی (رض) نے آواز سے گوز مارا، پھر پانی منگوایا اور دائیں کے بجائے بائیں سے شروع کیا۔
(ب) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں : میں اس کی پروا نہیں کرتا، اگر میں دائیں سے پہلے بائیں سے شروع کروں۔
(ج) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں : میں پروا نہیں کرتا جب میں مکمل وضو کروں جس اعضاء سے بھی میں شروع کروں۔
(د) یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد حفص بن غیاث کی حدیث ہے۔ واللہ اعلم