(۴۰۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّی رَجُلٌ سَرِیعُ الْقِرَائَ ۃِ ، وَرُبَّمَا قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِی لَیْلَۃٍ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لأَنْ أَقْرَأَ سُورَۃً وَاحِدَۃً أَعْجَبُ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ مِثْلَ الَّذِی تَفْعَلُ ، فَإِنْ کُنْتَ فَاعِلاً لاَ بُدَّ فَاقْرَأْہُ قِرَائَ ۃً تُسْمِعُ أُذُنَیْکَ وَیَعِیہِ قَلْبُکَ۔
[صحیح۔ وھو عندالمصنف فی الشعب ۵/۱۷۵/۲۰۹۱ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٤٠٦١) ابو حمزہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے سیدنا ابن عباس (رض) سے کہا : میں تیز قرات کرنے والا آدمی ہوں اور کبھی کبھار تو میں ایک رات میں ایک بار دو بار قرآن پڑھ لیتا ہوں تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : میں ایک ہی سورت پڑھوں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس بات سے کہ میں اس طرح کروں جس طرح تم کرتے ہو (یعنی ایک رات میں ایک یا دو مرتبہ ختم۔ )
اگر تو نے لازمی اس طرح کرنا ہی ہے تو (کم از کم) اس طرح پڑھ کہ تو اپنے کانوں کو سنا سکے اور تیرا دل اس کو یاد رکھے۔