(۴۰۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ إِسْحَاقُ بْنُ یَحْیَی بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ التَّیْمِیُّ عَنْ عَمِّہِ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ مُطِیعِ بْنِ الأَسْوَدِ قَالَ : صَلَّی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ، ثُمَّ رَکِبْتُ أَنَا وَہُوَ إِلَی أَرْضِنَا ، فَلَمَّا جَلَسَ عَلَی رَبِیعٍ مِنْہَا یَتَوَضَّأُ مِنْہُ فَإِذَا عَلَی فَخِذِہِ احْتِلاَمٌ فَقَالَ : ہَذَا الاِحْتِلاَمُ عَلَی فَخِذِی لَمْ أَشْعُرْ بِہِ فَحَکَّہُ ، ثُمَّ قَالَ : صِرْتُ وَاللَّہِ حِینَ أَکَلَتُ الدَّسَمَ وَدَخَلْتُ فِی السِّنِ یَخْرُجُ مِنِّی مَا لاَ أَشْعُرُ بِہِ۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ : فَمَا أَشْعُرُ بِہِ وَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ أَعَادَ صَلاَۃَ الصُّبْحِ ، وَلَمْ یَأْمُرْ أَحَدًا بِإِعَادَۃِ الصَّلاَۃِ۔ [ضعیف]
(٤٠٧٢) مطیع بن اسود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر میں اور حضرت عمر (رض) سوار ہو کر اپنی زمین کی طرف چلے گئے۔ جب حضرت عمر (رض) ایک نالے پر بیٹھ کر اس سے وضو کرنے لگے تو ان کی ران پر مَنی لگی ہوئی تھی، وہ فرمانے لگے : یہ میری ران پر مَنی لگی ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں، اس کو صاف کردیا، پھر اللہ کی قسم ! جب بھی میں چکنائی والی چیز کھاتا ہوں، میں عمر کے ایسے حصے میں پہنچ گیا ہوں کہ مجھ سے ایسی چیز نکل جاتی ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا۔ پھر آپ نے غسل کیا اور صبح کی نماز دوہرائی، لیکن کسی ایک کو بھی نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔