(۴۰۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ : الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحَمْنِ بْنُ مَہْدِیٍّ قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحَمْنِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی ضِرَارٍ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَلَّی بِالنَّاسِ وَہُوَ جُنُبٌ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ نَظَرَ فِی ثَوْبِہِ احْتِلاَمًا فَقَالَ : کَبِرْتُ وَاللَّہِ إِنِّی لأَرَانِی أَجْنُبُ ، ثُمَّ لاَ أَعْلَمُ ثُمَّ أَعَادَ ، وَلَمْ یَأْمُرْہُمْ أَنْ یُعِیدُوا۔
قَالَ عَبْدُ الرَّحَمْنِ : سَأَلْتُ سُفْیَانَ عَنْہُ فَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ وَلاَ أَجِیئُ بِہِ کَمَا أُرِیدُ۔ قَالَ عَبْدُ الرَّحَمْنِ : وَہَذَا الْمُجْتَمَعُ عَلَیْہِ الْجُنُبُ یُعِیدُ وَلاَ یُعِیدُونَ ، مَا أَعْلَمُ فِیہِ اخْتِلاَفًا۔
قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ أَبُو عُبَیْدٍ یَعْنِی فِی رِوَایَتِہِ قَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ وَلاَ أَحْفَظْہُ وَلَمْ یَزِدْ عَلَی ہَذَا۔
[ضعیف۔ دارقطنی ۱/۳۶۴/۱۲]
(٤٠٧٤) محمد بن عمرو سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، جب صبح ہوئی تو اپنے کپڑوں میں جنابت کو دیکھا اور فرمانے لگے : میں بوڑھا ہوگیا ہوں، اللہ کی قسم ! میں اپنے آپ کو جنبی خیال کرتا ہوں پھر مجھے معلوم نہیں ہوتا۔ پھر آپ (رض) نے نماز دوہرائی اور دوسروں کو نماز دوہرانے کا حکم نہیں دیا۔
عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ جنبی اپنی نماز دوہرائے گا، لیکن دوسرے نماز نہیں دوہرائیں گے۔ میں اس میں اختلاف کو نہیں جانتا۔