(۴۱۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ہُوَ ابْنُ حَسَّانَ عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ تَحِیضُ فِی دِرْعِہَا ، فَیَکُونَ عَلَیْہَا أَیَّامَ حَیْضَتِہَا فَتَعْرَقُ فِیہِ ، أَتُصَلِّی فِیہِ؟ قَالَ : نَعَمْ مَا لَمْ یَکُنْ فِیہِ دَمٌ، وَکَذَلِکَ الْجُنُبُ یَعْرَقُ فِی ثَوْبِہِ فَیُصَلِّی فِیہِ ۔ [حسن]
(٤١٢٣) حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر حائضہ عورت کو قمیص میں ایامِ حیض میں پسینہ آجائے تو کیا اس قمیص میں وہ نماز پڑھ لے ؟ ابن عباس (رض) نے فرمایا : ہاں ! اس میں خون نہیں ہے۔ اسی طرح جنبی آدمی جس کو کپڑوں میں پسینہ آجائے تو وہ انھیں کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہے۔