(۴۱۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِی الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّہِ : أَنَّہَا أَبْصَرَتْ أُمَّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَصُبُّ عَلَی بَوْلِ الْغُلاَمِ مَا لَمْ یَطْعَمْ ، فَإِذَا طَعِمَ غَسَلَتْہُ ، وَکَانَتْ تَغْسِلُ بَوْلَ الْجَارِیَۃِ۔
وَالأَحَادِیثُ الْمُسْنَدَۃُ فِی الْفَرْقِ بَیْنَ بَوْلِ الْغُلاَمِ وَالْجَارِیَۃِ فِی ہَذَا الْبَابِ إِذَا ضُمَّ بَعْضُہَا إِلَی بَعْضٍ قَوِیَتْ ، وَکَأَنَّہَا لَمْ تَثْبُتْ عِنْدَ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ حِینَ قَالَ : وَلاَ یَتَبَیَّنَ لِی فِی بَوْلِ الصَّبِیِّ وَالْجَارِیَۃِ فَرْقٌ مِنَ السُّنَّۃِ الثَّابِتَۃِ۔
وَإِلَی مِثْلِ ذَلِکَ ذَہَبَ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ حَیْثُ لَمْ یُودِعَا شَیْئًا مِنْہَا کِتَابَیْہِمَا ، إِلاَّ أَنَّ الْبُخَارِیَّ اسْتَحْسَنَ حَدِیثَ أَبِی السَّمْحِ ، وَصَوَّبَ ہِشَامًا فِی رَفْعِ حَدِیثِ عَلِیٍّ ، وَمَعَ ذَلِکَ فِعْلُ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا صَحِیحٌ عَنْہَا مَعَ مَا سَبَقَ مِنَ الأَحَادِیثِ الثَّابِتَۃِ فِی الرَّشِّ عَلَی بَوْلِ الصَّبِیِّ۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۳۷۹]
(٤١٦٣) حضرت حسن (رض) اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ام سلمہ (رض) کو دیکھا وہ شیر خوار بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارتی تھیں اور جب وہ کھانا کھانے لگتا تو وہ پیشاب کو دھوتی تھیں اور بچی کے پیشاب کو دھویا کرتی تھیں۔
بچے اور بچی کے پیشاب میں فرق ہے، لیکن امام شافعی کے نزدیک سنت سے ثابت یہ فرق واضح نہ تھا، اس لیے انھوں نے کہہ دیا کہ میرے نزدیک کوئی فرق نہیں۔