(۴۱۷۵) أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ وَابْنِ جُرَیْجٍ کِلاَہُمَا یُخْبِرُہُ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ قَالَ فِی الْمَنِیِّ یُصِیبُ الثَّوْبَ ، قَالَ : أَمِطْہُ عَنْکَ قَالَ أَحَدُہُمَا بِعُودِ إِذْخِرٍ ، فَإِنَّمَا ہُوَ بِمَنْزِلَۃِ الْبُصَاقِ أَوِ الْمُخَاطِ۔ہَذَا صَحِیحٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ قَوْلِہِ۔
وَقَدْ رُوِیَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَصِحُّ رَفْعُہُ۔ [صحیح]
(٤١٧٥) عبداللہ بن عباس (رض) اس منی کے بارے میں جو کپڑوں کو لگ جائے فرماتے ہیں کہ اسے اپنے آپ سے دور کرو، ایک راوی بیان کرتے ہیں کہ اذخر لکڑی کے ساتھ صاف کرو، کیونکہ منی تھوک یا بلغم جیسی ہوتی ہے۔