(۴۲۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ یَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مَنْزِلِہِ بِمِنًی ، فَدَعَا بَذَبْحٍ فَذَبَحَ ثُمَّ دَعَا بِالْحَلاَّقِ ، فَأَخَذَ شِقَّ رَأْسِہِ الأَیْمَنَ فَحَلَقَہُ ، فَجَعَلَ یَقْسِمُ بَیْنَ مَنْ یَلِیہِ الشَّعْرَۃَ وَالشَّعْرَتَیْنِ ، ثُمَّ أَخَذَ شِقَّ رَأْسِہِ الأَیْسَرَ فَحَلَقَہُ ثُمَّ قَالَ : ہَا ہُنَا أَبُو طَلْحَۃَ؟ ۔فَدَفَعَہُ إِلَی أَبِی طَلْحَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلاَئِ أَبِی کُرَیْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۹۲۰]
(٤٢٣٢) انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمرۃ عقبہ کو قربانی والے دن پتھر مارے، پھر اپنی جگہ پر منیٰ میں واپس آئے، قربانی منگوا کر ذبح کی، پھر سر مونڈنے والے کو بلایا، اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر کے دائیں جانب سے بال اتار دیے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاس بیٹھنے والوں میں ایک ایک، دو دو بال کر کے تقسیم کردیے، پھر اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بائیں جانب کے بال اتارے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہاں ابوطلحہ ہے ؟ وہ بال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو طلحہ (رض) کو دے دیے۔