(۴۲۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَۃَ السَّعْدِیُّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ بَیْنَمَا ہُوَ یُصَلِّی بِأَصْحَابِہِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَیْہِ فَوَضَعَہُمَا عَنْ یَسَارِہِ ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ أَصْحَابُہُ خَلَعُوا نِعَالَہُمْ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : ((مَا لَکُمْ خَلَعْتُمْ نِعَالَکُمْ؟))۔قَالُوا : رَأَیْنَاکَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا۔قَالَ : ((إِنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَخْبَرَنِی أَنَّ بِہِمَا قَذَرًا)) فَقَالَ ((إِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ إِلَی الصَّلاَۃِ فَلْیَنْظُرْ إِلَی نَعْلَیْہِ ، فَإِنْ کَانَ فِیہِمَا أَذًی أَوْ قَالَ قَذَرًا فَلْیُمِطْہُ وَلْیُصَلِّ فِیہِمَا))۔
[صحیح۔ ابن ابی حاتم فی العلل ۳۳۰]
(٤٢٤٩) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے، اچانک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے جوتے اتار کر بائیں جانب رکھ لیے۔ جب صحابہ (رض) نے دیکھا تو انھوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا : تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے ؟ انھوں نے کہا : ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے بتایا تھا کہ ان میں گندگی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم نماز کو آؤ تو اپنے جوتے دیکھ لو، اگر ان میں گندگی ہو تو صاف کرلو ورنہ انہی میں نماز پڑھ لو۔