(۴۳۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُلَیْمٍ حَدَّثَنِی أَبُو الْوَلِیدِ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ : مَا کَانَ بَدْئُ ہَذَا الزَّعْفَرَانِ فِی الْمَسْجِدِ؟ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَرَأَی نُخَامَۃً فِی قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ : ((غَیْرُ ہَذَا أَحْسَنُ مِنْ ہَذَا))۔فَسَمِعَ بِذَلِکَ رَجُلٌ فَجَائَ بِزَعْفَرَانٍ فَحَکَّہَا ثُمَّ طَلَی بِالزَّعْفَرَانِ مَکَانَہَا ، فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ ذَلِکَ قَالَ : ((ہَذَا أَحْسَنُ مِنَ الأَوَّلِ))۔قَالَ : وَصَنَعَہُ النَّاسُ۔
وَحَدِیثُ جَابِرٍ فِی ہَذَا قَدْ مَضَی فِی بَابِ الْبُزَاقِ۔ [ضعیف]
(٤٣١٠) ابو ولید نے ابن عمر (رض) سے سوال کیا کہ مسجد میں زعفران خوشبو کی ابتدا کیسے ہوئی ؟ انھوں نے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں آئے تو قبلہ کی جانب مسجد میں بلغم دیکھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے علاوہ کوئی اچھی چیز ہونی چاہیے، ایک آدمی نے یہ بات سنی تو وہ زعفران لے کر آیا۔ اس نے اسے کھرچ دیا اور وہاں پر زعفران مل دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ پہلی سے زیادہ اچھی ہے، پھر لوگوں نے ایسا ہی کیا۔