(۴۳۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی حَرْبِ بْنِ أَبِی الأَسْوَدِ الدِّیلِیِّ عَنْ طَلْحَۃَ النَّصْرِیِّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ مُہَاجِرًا وَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَإِنْ کَانَ لَہُ عَرِیفٌ نَزَلَ عَلَیْہِ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ عَرِیفٌ نَزَلَ الصُّفَّۃَ فَقَدِمْتُہَا وَلَیْسَ لِی بِہَا عَرِیفٌ ، فَنَزَلْتُ الصُّفَّۃَ ، وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یُرَافِقُ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ ، وَیَقْسِمُ بَیْنَہُمَا مُدًّا مِنْ تَمْرٍ ، فَبَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ فِی صَلاَتِہِ إِذْ نَادَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ ، وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ۔قَالَ : وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ حَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، وَذَکَرَ مَا لَقِیَ مِنْ قَوْمِہِ ثُمَّ قَالَ : ((لَقَدْ رَأَیْتُنِی وَصَاحِبِی مَکَثْنَا بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً مَا لَنَا طَعَامٌ غَیْرُ الْبَرِیرِ))۔وَالْبَرِیرُ ثَمَرُ الأَرَاکِ : ((حَتَّی أَتَیْنَا إِخْوَانَنَا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَآسَوْنَا مِنْ طَعَامِہِمْ ، وَکَانَ جُلُّ طَعَامِہِمُ التَّمْرَ ، وَالَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ لَوْ قَدَرْتُ لَکُمْ عَلَی الْخُبْزِ وَاللَّحْمِ لأَطْعَمْتُکُمُوہُ ، وَسَیَأْتِی عَلَیْکُمْ زَمَانٌ أَوْ مَنْ أَدْرَکَہُ مِنْکُمْ تَلْبَسُونَ أَمْثَالَ أَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ ، وَیُغْدَی وَیُرَاحُ عَلَیْکُمْ بِالْجِفَانِ))۔قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَحْنُ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ أَوِ الْیَوْمَ؟ قَالَ : ((لاَ بَلْ أَنْتُمُ الْیَوْمَ خَیْرٌ ، أَنْتُمُ الْیَوْمَ إِخْوَانٌ ، وَأَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ))۔ [صحیح۔ احمد ۱۵۵۵۸، ابن حبان ۶۶۸۴]
(٤٣٣٧) طلحہ نصری (رض) فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں ہجرت کر کے گیا۔ جب بھی کوئی شخص مدینہ میں ہجرت کر کے آتا، اگر تو کوئی اس کا جاننے والا ہوتا تو وہ اس کے پاس ٹھہرتا، اگر نہ ہوتا تو وہ اصحابِ صفہ کے ساتھ رہتا۔ میں آیا تو میری بھی کوئی جان پہچان نہیں تھی۔ میں اصحابِ صفہ کے ساتھ رہا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو ، دو آدمیوں کو باہم ساتھی بنا رہے تھے اور ان کے درمیان ایک مد کھجور تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں تھے تو اچانک ایک شخص نے آواز دی : اے اللہ کے رسول ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا ڈالا اور ہمارے سینے پھٹ گئے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد اس پریشانی کا تذکرہ کیا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی قوم کی طرف سے پہنچی تھی، پھر فرمایا : میں اور میرا ساتھی دس راتوں سے زائد ٹھہرے رہے اور ہمارے پاس پیلو کے سوا کوئی کھانا نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے۔ انھوں نے کھانے کے ذریعے ہماری مدد کی۔ ان کا بہترین کھانا کھجور تھا۔ اس اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر میں روٹی اور گوشت کھلانے کی طاقت رکھوں تو تمہیں ضرور کھلاؤں، عنقریب تمہارے اوپر وہ دور آئے گا یا تم میں سے جس نے اسے پا لیا۔ تم کعبہ کے غلافوں کی مثل پہنو گے، صبح و شام تم پر شراب کا دور چلے گا۔ انھوں نے سوال کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم آج بہتر ہیں یا اس دن بہتر ہوں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم آج بہتر ہو کہ تم بھائی بھائی ہو اور اس دن تم ایک دوسرے کی گردنیں توڑو گے۔