(۴۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْقَاضِی بِمِصْرَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَہُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ ، ثُمَّ جَلَسَ یَبُولُ إِلَیْہَا فَقُلْتُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَیْسَ قَدْ نُہِیَ عَنْ ہَذَا؟ قَالَ : بَلَی ، إِنَّمَا نُہِیَ عَنْ ذَلِکَ فِی الْفَضَائِ ، فَإِذَا کَانَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ شَیْئٌ یَسْتُرُکَ فَلاَ بَأْسَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱]
(٤٣٨) مروان اصفر کہتے ہیں : میں نے ابن عمر (رض) کو دیکھا، انھوں نے اپنی سواری قبلہ کی طرف بٹھائی ‘ پھر بیٹھ کر پیشاب کیا۔ میں نے کہا : اے ابو عبد الرحمن ! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا ؟ تو انھوں نے فرمایا : کیوں نہیں ! کھلی جگہ میں اس سے منع کیا گیا ہے، لیکن جب تیرے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز ہو جو تجھ کو ڈھانپ دے (یعنی کوئی پردہ ہوجائے) تو اس میں کوئی حرج نہیں۔