(۴۴۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ : رَأَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ طَافَ بَعْدَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، ثُمَّ رَکَعَ۔
فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِنَافِعٍ ، فَقَالَ نَافِعٌ : کَذِبَ أَہْلُ مَکَّۃَ عَلَی ابْنِ عُمَرَ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ أَیْضًا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔
وَہَذَا التَّکْذِیبُ غَیْرُ مَقْبُولٍ مِنْ نَافِعٍ ، وَکَأَنَّہُ لَمْ یَعْلَمُ عَدَالَۃَ مَنْ رَوَاہُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ، وَلَوْ عَلَمِہَا لأَشْبَہَ أَنْ یُصَدِّقَ وَلاَ یُکَذِّبَ ، وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یُجِیزُ الصَّلاَۃَ عَلَی الْجَنَازَۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ ، وَکَذَلِکَ رَکْعَتَا الطَّوَافِ ، وَإِنَّمَا النَّہْیُ عِنْدَہُ عَنْ تَحَرِّی طُلُوعِ الشَّمْسِ وَغُرُوبِہَا بِالصَّلاَۃِ ، فَمَا رَوَاہُ أَہْلُ مَکَّۃَ عَنْہُ فِی رَکْعَتَیِ الطَّوَافِ لاَئِقٌ بِمَذْہَبِہِ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح تقدم]
(٤٤٢١) عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو صبح کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب سے پہلے طواف کرتے دیکھا، پھر انھوں نے نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں : اس بات کا تذکرہ میں نے نافع کے سامنے کیا تو نافع (رح) فرمانے لگے : مکہ والوں کو ابن عمر (رض) کے متعلق غلطی لگ گئی ہے۔
نافع کی یہ تکذیب مقبول نہیں ہے، کیونکہ وہ اس کی عدالت کے متعلق نہیں جانتے۔ جو ابن عمر کی مکہ والوں سے روایت ہے، اگر وہ جانتے تو اس کی تصدیق کرتے تکذیب نہیں اور ابن عمر عصر اور صبح کے بعد نماز جنازہ پڑھ لیتے تھے۔ اسی طرح طواف کی دو رکعات بھی، لیکن طلوعِ شمس اور غروب کے وقت ان کے نزدیک نماز ممنوع ہے اور اہل مکہ جو ان سے روایت کرتے ہیں ممکن ہے وہ ان کے اپنے مذہب کے مطابق ہو۔ (واللہ اعلم)