(۴۴۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبِرْنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِی سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ
طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ یَقُولُ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ ﷺ مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِیَّ صَوْتِہِ وَلاَ نَفْقَہُ مَا یَقُولُ حَتَّی دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فَإِذَا ہُوَ یَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ))۔فَقَالَ : ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُنَّ؟ قَالَ : ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ ، وَصِیَامُ شَہْرِ رَمَضَانَ))۔فَقَالَ : ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُ؟ قَالَ : ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ))۔وَذَکَرَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ الزَّکَاۃَ فَقَالَ ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا قَالَ: ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ)) فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَہُوَ یَقُولُ : وَاللَّہِ لاَ أَزِیدُ عَلَی ہَذَا وَلاَ أَنْقُصُ مِنْہُ۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ قُتَیْبَۃَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۴۴۶]
(٤٤٤٨) طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ اہل نجد کا ایک شخص بکھرے ہوئے بالوں والا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھتے نہیں تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوا اور وہ اسلام کے بارے میں سوال کررہا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس نے کہا : کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی فرض ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مگر یہ کہ تو نفل پڑھے اور رمضان کے روزے فرض ہیں۔ اس نے کہا : کیا ان روزوں کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی فرض ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مگر یہ کہ تو نفلی روزے رکھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے زکوۃ کا ذکر کیا۔ اس نے کہا : کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر فرض ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ کرے۔ اس شخص نے پیٹھ پھیری اور وہ کہہ رہا تھا۔ اللہ کی قسم ! نہ میں اس میں زیادتی کروں گا اور نہ ہی کمی کروں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہوگیا۔