(۴۴۵۴) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الْوِتْرُ لَیْسَ بِحَتْمٍ کَالصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ ، وَلَکِنَّہُ سُنَّۃٌ سَنَّہَا رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَقَالَ : ((أَوْتِرُوا یَا أَہْلَ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ))۔ [حسن۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٤٤٥٤) عاصم بن ضمرہ، حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وتر لازم نہیں جیسے فرض نماز ہے بلکہ سنت ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سنت قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں : اے اہل قرآن ! تم وتر پڑھا کرو، بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔