(۴۴۵۸) أَخْبَرَنَا الشَّیْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَیْحِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَلَیْسَ عَلَیْکَ ، وَضَحَّی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَلَیْسَ عَلَیْکَ ، وَصَلَّی الضُّحَی وَلَیْسَ عَلَیْکَ ، وَصَلَّی قَبْلَ الظُّہْرِ وَلَیْسَ عَلَیْکَ ، وَقَالَ قَتَادَۃُ فَقُلْتُ : ہَذَا مَا یُعْرَفُ غَیْرَ الْوِتْرِ۔قَالَ : إِنَّمَا قَالَ : یَا أَہْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا ، فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ۔ [حسن]
(٤٤٥٨) قتادہ (رح) سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وتر پڑھا اور تجھ پر یہ فرض نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاشت کی نماز پڑھی اور تجھ پر یہ فرض نہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کی اور تجھ پر فرض نہیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر سے پہلے نماز پڑھی اور تجھ پر فرض نہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : یہ وہ چیزیں ہیں جن کو وتر کے علاوہ پہنچانا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اے اہل قرآن ! تم وتر پڑھو۔ اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔