(۴۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِیَادِ بْنِ مِہْرَانَ السِّمْسَارُ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ مُجَاہِدٍ أَبِی حَزْرَۃَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ عِبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : أَتَیْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فِی مَسْجِدِہِ فَذَکَرَ قِصَّۃً قَالَ فَقَالَ جَابِرٌ : فَذَہَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْضِی حَاجَتَہُ فَأَتْبَعْتُہُ بِإِدَاوَۃٍ مِنْ مَائٍ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمْ یَرَ شَیْئًا یَسْتَتِرُ بِہِ ، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِئِ الْوَادِی فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی إِحْدَاہُمَا فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِہَا فَقَالَ : ((انْقَادِی عَلَیَّ بِإِذْنِ اللَّہِ تَعَالَی)) فَانْقَادَتْ مَعَہُ کَالْبَعِیرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِی یُصَانِعُ قَائِدَہُ حَتَّی أَتَی الشَّجَرَۃَ الأُخْرَی ، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِہَا فَقَالَ : ((انْقَادِی عَلَیَّ بِإِذْنِ اللَّہِ تَعَالَی))۔ فَانْقَادَتْ مَعَہُ کَذَلِکَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالْمَنْصَفِ فِیمَا بَیْنَہُمَا لأَمَ بَیْنَہُمَا یَعْنِی جَمَعَہُمَا فَقَالَ : ((الْتَئِمَا عَلَیَّ بِإِذْنِ اللَّہِ تَعَالَی))۔ فَالْتَأَمَتَا قَالَ جَابِرٌ فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِی فَحَانَتْ مِنِّی لَفْتَۃٌ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُقْبِلٌ وَإِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا ، فَقَامَتْ کُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا عَلَی سَاقٍ۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲/۳]
(٤٤٧) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کے لیے گئے تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیچھے پانی کا ایک ڈول لے کر گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی ایسی چیز نہ دیکھی جس کی اوٹ میں چھپ جائیں، وادی کے کنارے پر دو درخت تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے ایک کی طرف گئے اور اس کی ایک ٹہنی پکڑ کر فرمایا : ” اللہ کے حکم پر میری مطیع بن جا تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایسے مطیع ہوگئی جیسے تابع اونٹ ہوتا ہے جو اپنے قائد کے ساتھ چلا کرتا ہے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ایک ٹہنی کو پکڑ کر فرمایا : اللہ کے حکم کے ساتھ میرے لیے مطیع ہوجا تو وہ بھی اسی طرح مطیع ہوگئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کو ملاتے ہوئے ان سے کہا کہ تم دونوں مجھ پر اللہ کے حکم سے متحد ومتفق ہو جاؤ تو وہ دونوں جڑ گئیں سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ کر اپنے آپ سے باتیں کررہا تھا، میں ایک نظر دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اچانک سامنے تھے اور درخت الگ الگ ہوگئے تھے اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر تھا۔