(۴۴۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنِی أَبُو زِیَادَۃَ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ زِیَادَۃَ الْکِنْدِیُّ عَنْ بِلاَلٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ : أَنَّہُ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یُؤْذِنُہُ بِصَلاَۃِ الْغَدَاۃِ ، فَشَغَلَتْ عَائِشَۃُ بِلاَلاً بِأَمْرٍ سَأَلَتْہُ عَنْہُ حَتَّی فَضَحَہُ الصُّبْحُ ، فَأَصْبَحَ جِدًّا قَالَ فَأَقَامَ بِلاَلٌ فَآذَنَہُ بِالصَّلاَۃِ وَتَابَعَ أَذَانَہُ ، فَلَمْ یَخْرُجْ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّی بِالنَّاسِ ، فَأَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ شَغَلَتْہُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْہُ عَنْہُ حَتَّی أَصْبَحَ جِدًّا ، وَإِنَّہُ أَبْطَأَ عَلَیْہِ بِالْخُرُوجِ فَقَالَ : ((إِنِّی کُنْتُ رَکَعْتُ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ))۔فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ أَصْبَحْتَ جِدًّا۔قَالَ : ((لَوْ أَصْبَحْتُ أَکْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَکَعْتُہُمَا ، وَأَحْسَنْتُہُمَا وَأَجْمَلْتُہُمَا))۔
وَرُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((لاَ تَدَعُوہُمَا وَإِنْ طَرَدَتْکُمُ الْخَیْلُ))۔
وَہُوَ فِی بَعْضِ النُّسَخِ بِکِتَابِ أَبِی دَاوُدَ۔ [صحیح۔ احمد ۲۳۳۹۳]
(٤٤٧٣) بلال (رض) فرماتے ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صبح کی نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو حضرت عائشہ (رض) نے بلال (رض) کو کسی کام میں مصروف کردیا، وہ ان سے سوال کر رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح اچھی طرح روشن ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں : بلال (رض) نے اذان کہی اور اس کے بعد کان لگایا (یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں کی آواز کے لیے) لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں نکلے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی۔ بلال (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا کہ عائشہ (رض) نے ان کو کسی معاملہ میں مصروف کردیا، جس کی وجہ بہت زیادہ صبح ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی آنے میں دیر کردی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے فجر کی رکعتیں پڑھیں۔ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت زیادہ صبح کردی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں اس سے بھی زیادہ صبح کردیتا تو ان دو رکعتوں کو خوب اچھی طرح ادا کرتا۔