(۴۴۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَفِیَّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْخَیْرِ یَقُولُ : رَأَیْتُ أَبَا تَمِیمٍ الْجَیْشَانِیُّ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَالِکٍ یَرْکَعُ رَکْعَتَیْنِ حِینَ یَسْمَعُ أَذَانَ الْمَغْرِبِ ، فَأَتِیتُ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّ فَقُلْتُ : أَلاَ أُعْجِبُکَ مِنْ أَبِی تَمِیمٍ یَرْکَعُ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ؟ فَقَالَ عُقْبَۃُ : أَمَّا إِنَّا کُنَّا نَفْعَلُہُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ۔قُلْتُ : فَمَا یَمْنَعُکَ الآنَ؟ قَالَ : الشُّغْلُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْمُقْرِئِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۸۴]
(٤٤٩٥) یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں : میں نے ابوالخیر سے سنا کہ میں نے ابو تمیم جیشانی (عبداللہ بن مالک) کو دیکھا کہ وہ مغرب کی اذان سننے کے بعد دو رکعت ادا کرتے تھے۔ میں عقبہ بن عامر جہنی کے پاس آیا اور میں نے کہا : مجھے اس بات نے تعجب میں ڈال دیا کہ ابوتمیم مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھتے ہیں تو عقبہ (رض) نے کہا : ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں پڑھا کرتے تھے تو میں نے کہا : اب آپ کو کس چیز نے روک دیا تو کہنے لگے : مصروفیت نے۔