(۴۵۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ قَالَ : خَرَجَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی السُّوقِ وَأَنَا بِأَثَرِہِ ، فَقَامَ عَلَی الدَّرَجِ فَاسْتَقْبَلَ الْفَجْرَ فَقَالَ {وَاللَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ} أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ نِعْمَ سَاعَۃُ الْوِتْرِ ہَذِہِ۔ [ضعیف]
(٤٥٢٣) ابی ظبیان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) بازار کی طرف چلے اور میں ان کے پیچھے تھا۔ وہ ایک راستے کی طرف ٹھہرے اور فجر کی طرف متوجہ ہوئے، پھر فرمایا؛ { وَاللَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ } ” رات جب چھا جائے اور صبح جب پھوٹے “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ یہ وقت وتر کے لیے بہتر ہے۔