(۴۵۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ : أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلُوہُ عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ : سَأَلْتُمْ عَنْہُ أَحَدًا؟ فَقَالُوا : سَأَلْنَا أَبَا مُوسَی فَقَالَ : لاَ وِتْرَ بَعْدَ الأَذَانِ۔ فَقَالَ : لَقَدْ أَغْرَقَ النَّزْعَ فَأَفْرَطَ فِی الْفَتْوَی، کُلُّ شَیْئٍ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ وِتْرٌ، مَتَی أَوْتَرْتَ فَحَسَنٌ۔ [ضعیف]
(٤٥٢٦) عاصم بن ضمرہ (رض) فرماتے ہیں : کچھ لوگ حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور وتر کے بارے میں سوال کیا تو حضرت علی (رض) فرمانے لگے : کیا تم نے کسی اور سے بھی اس کے بارے میں سوال کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم نے ابو موسیٰ (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : اذان کے بعد وتر نہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : انھوں نے سخت تنقید کی ہے۔ فتویٰ دینے میں تجاوز کیا ہے۔ عشا اور صبح کی نماز کے درمیان وتر کا وقت ہے۔ جب بھی آپ وتر پڑھ لیں اچھا ہے۔