(۴۶۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَمَعَ النَّاسَ عَلَی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، فَکَانَ یُصَلِّی بِہِمْ عِشْرِینَ لَیْلَۃً ، وَلاَ یَقْنُتُ بِہِمْ إِلاَّ فِی النِّصْفِ الْبَاقِی ، فَإِذَا کَانَتِ الْعَشْرُ الأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّی فِی بَیْتِہِ ، فَکَانُوا یَقُولُونَ : أَبِقَ أُبَیٌّ۔ [ضعیف]
(٤٦٣٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو ابی بن کعب پر جمع کردیا، وہ بیس راتیں تراویح پڑھاتے، صرف آخری دس دن میں قنوت پڑھتے اور جب آخری عشرہ ہوتا تو ابی بن کعب اپنے گھر میں نماز پڑھتے۔ لوگ کہتے : ابی بھاگ گئے ۔