(۴۶۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ : سُئِلَ الأَوْزَاعِیُّ عَنِ الْقُنُوتِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ قَالَ : أَمَّا مَسَاجِدُ الْجَمَاعَۃِ فَیَقْنُتُونَ مِنْ أَوَّلِ الشَّہْرِ إِلَی آخِرِہِ ، وَأَمَّا أَہْلُ الْمَدِینَۃِ فَإِنَّہُمْ یَقْنُتُونَ فِی النِّصْفِ الْبَاقِی إِلَی انْسِلاِخِہِ۔
وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُسْنَدٌ إِلاَّ أَنَّہُ ضَعِیفٌ لاَ یَصِحُّ إِسْنَادُہُ۔ [صحیح]
(٤٦٣٦) عباس بن ولید بن مزید اپنے باپ سے نقل فرماتے ہیں کہ اوزاعی سے رمضان کے مہینہ میں قنوت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا : جماعت والی مساجد میں شروع مہینہ سے آخر تک قنوت پڑھی جاتی، لیکن مدینہ والے آخری نصف میں قنوت پڑھتے تھے۔