(۴۶۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ : أَحْمَدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیَّ یَقُولُ حَدِیثُ النُّزُولِ قَدْ ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ مِنْ وُجُوہٍ صَحِیحَۃٍ ، وَوَرَدَ فِی التَّنْزِیلِ مَا یُصَدِّقُہُ وَہُوَ قَوْلُہُ تَعَالَی {وَجَائَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا} [الفجر: ۲۲] وَالنُّزُولُ والْمَجِیئُ صِفَتَانِ مَنْفِیَّتَانِ عَنِ اللَّہِ تَعَالَی مِنْ طَرِیقِ الْحَرَکَۃِ ، وَالاِنْتِقَالِ مِنْ حَالٍ إِلَی حَالٍ ، بَلْ ہُمَا صِفَتَانِ مِنْ صِفَاتِ اللَّہِ تَعَالَی بِلاَ تَشْبِیہٍ ، جَلَّ اللَّہُ تَعَالَی عَمَّا تَقُولُ الْمُعَطِّلَۃُ لِصِفَاتِہِ وَالْمُشَبِّہَۃُ بِہَا عُلُوًّا کَبِیرًا۔
قُلْتُ : وَکَانَ أَبُو سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ یَقُولُ : إِنَّمَا یُنْکِرُ ہَذَا وَمَا أَشْبَہَہُ مِنَ الْحَدِیثِ مَنْ یَقِیسُ الأُمُورَ فِی ذَلِکَ بِمَا یُشَاہِدُہُ مِنَ النُّزُولِ الَّذِی ہُوَ تَدَلِّی مِنْ أَعْلَی إِلَی أَسْفَلَ ، وَانْتِقَالٌ مِنْ فَوْقٍ إِلَی تَحْتٍ ، وَہَذِہِ صِفَۃُ الأَجْسَامِ وَالأَشْبَاحِ ، فَأَمَّا نُزُولُ مَنْ لاَ تَسْتَوْلِی عَلَیْہِ صِفَاتُ الأَجْسَامِ فَإِنَّ ہَذِہِ الْمَعَانِی غَیْرُ مُتَوَہَّمَۃٍ فِیہِ ، وَإِنَّمَا ہُوَ خَبَرٌ عَنْ قُدْرَتِہِ وَرَأْفَتِہِ بِعِبَادِہِ وَعَطْفِہِ عَلَیْہِمْ ، وَاسْتِجَابَتِہِ دُعَائَ ہُمْ ، وَمَغْفِرَتِہِ لَہُمْ ، یَفْعَلُ مَا یَشَائُ لاَ یَتَوَجَّہُ عَلَی صِفَاتِہِ کَیْفِیَّۃٌ وَلاَ عَلَی أَفْعَالِہِ کَمِّیَّۃٌ ، سُبْحَانَہُ لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئٌ وَہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ۔ [صحیح]
(٤٦٥٥) عبداللہ مزنی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر آنا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحیح احادیث سے ثابت ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے { وَجَائَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا } [الفجر : ٢٢] ” اترنے اور آنے کی دونوں صفات اللہ تعالیٰ سے حرکت کے اعتبار سے نفی نہیں ہیں اور ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے کے اعتبار سے بھی، بلکہ یہ دونوں صفات اللہ کے لیے بغیر تشبیہ کے ثابت ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تو معطلہ اور مشبھہ جو کہتے ہیں ان سے بہت بلند ہے۔
ابو سلیمان خطابی کہتے ہیں کہ اس جیسی احادیث کا انکار اس نے کیا ہے جو ان امور کو مشاہدات پر قیاس کرتا ہے جیسا کہ وہ اوپر سے نیچے کو آتی ہیں اور منتقل ہوتی ہیں اور یہ صفات جسم کی ہوتی ہیں۔ لیکن اس ذات کا نزول جس پر صفات اجسام صادق نہیں آسکتیں۔ ان معانی کے اندر کچھ وہم نہیں ہے، یہ تو اس کی قدرت، بندوں پر نرمی اور شفقت ہے، ان کی دعائیں قبول کرنے اور ان کو معاف کرنے کی خبر ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس کی صفات کی کیفیت اور افعال کی کیمیت نہیں دیکھی جاتی۔ وہ پاک ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔