(۴۶۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ یَعْنِی زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ کَیْفَ کَانَتْ صَلاَۃُ النَّبِیِّ ﷺ فِی رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ : مَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یَزِیدُ فِی رَمَضَانَ ، وَلاَ فِی غَیْرِ رَمَضَانَ عَلَی إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ، ثُمَّ یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ، ثُمَّ یُصَلِّی ثَلاَثًا ، قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ : ((یَا عَائِشَۃُ إِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔[صحیح۔ بخاری ۱۰۹۶]
(٤٦٧٣) ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رمضان میں نماز کے متعلق سوال کیا تو وہ فرمانے لگیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار رکعات پڑھتے، اس کی لمبائی اور خوبصورتی کے متعلق سوال نہ کرو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار رکعات پڑتے، ان کی لمبائی اور خوبصورتی کے متعلق بھی سوال نہ کرو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین رکعات پڑھتے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور دل جاگتا ہے۔