(۴۶۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : کُلَّ الْقُرْآنِ أَحْصَیْتَ غَیْرَ ہَذَا؟ قَالَ : إِنِّی لأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِی رَکْعَۃٍ۔فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : ہَذًّ کَہَذِّ الشِّعْرِ ، إِنَّ قَوْمًا یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ لاَ یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ ، وَلَکِنْ إِذَا وَقَعَ فِی الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِیہِ نَفَعَ ، إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَۃِ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ ، وَإِنِّی لأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِی کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُقْرِنُ بَیْنَہُنَّ سُورَتَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ۔ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللَّہِ فَدَخَلَ عَلْقَمَۃُ فِی أَثَرِہِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ : قَدْ أَخْبَرَنِی بِہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم]
(٤٦٨٩) ابو وائل فرماتے ہیں کہ عبداللہ نے فرمایا : کیا تم نے اس کے علاوہ پورے قرآن کو سجھ لیا ہے ؟ وہ فرمانے لگے : میں تو مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیتا ہوں۔ عبداللہ کہنے لگے : یہ تو شعر پڑھنے کی طرح ہوا۔ لوگ قرآن پڑھیں گے اور وہ ان کے حلقوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔ لیکن جب دل میں واقع ہو کا تو دل میں راسخ بھی ہوگا اور نفع بھی دے گا، کیونکہ افضل نماز وہ ہے جس میں رکوع و سجود زیادہ ہوں۔ پھر عبداللہ چلے گئے۔ ان کے بعد علقمہ (رح) داخل ہوئے، پھر ہم ان کے پاس گئے تو وہ کہنے لگے : انھوں نے مجھے اس کے بارے میں خبر دی۔