(۴۷۱۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی قَیْسٍ حَدَّثَہُ : أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ اللَّیْلِ؟ أَکَانَ یَجْہَرُ أَمْ یُسِرُّ؟ قَالَتْ : کُلُّ ذَلِکَ کَانَ یَفْعَلُ ، رُبَّمَا جَہَرَ ، وَرُبَّمَا أَسَرَّ۔قَالَ قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِی الأَمْرِ سَعَۃً۔ [صحیح لغیرہ۔ ترمذی ۴۴۹]
(٤٧١٠) عبداللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی قرأت کیسی ہوتی تھی ؟ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلند آواز سے قرأت کرتے تھے یا پست آواز سے ؟ فرماتی ہیں : کبھی بلند آواز سے اور کبھی پست آواز سے میں نے کہا : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔