(۴۷۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَشْہَلُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عُیَیْنَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ بُرَیْدَۃُ : انْطَلَقْتُ فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَظَنَنْتُ أَنَّ لَہُ حَاجَۃً فَجَعَلْتُ أُعَارِضُہُ وَأَخْنَسُ عَنْہُ قَالَ فَدَعَانِی فَأَخَذَ بِیَدِی ، فَرَأَی رَجُلاً یُکْثِرُ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ فَقَالَ : أَتَرَاہُ مُرَائِی أَتَرَاہُ مُرَائِی؟ ۔قَالَ : فَتَرَکَ یَدَہُ مِنْ یَدِی ، وَقَالَ : (( عَلَیْکُمْ ہَدْیًا قَاصِدًا عَلَیْکُمْ ہَدْیًا قَاصِدًا))۔وَضَرَبَ بِإِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی : (( فَإِنَّہُ مَنْ یُشَادَّ ہَذَا الدِّینَ یَغْلِبْہُ))۔ [صحیح لغیرہ۔ احمد ۵/۳۵۰]
(٤٧٤٢) عیینہ بن عبدالرحمن اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ بریدہ (رض) فرماتے ہیں : میں چل رہا تھا، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو گمان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ضرورت ہے۔ کبھی تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آتا اور کبھی چھپ جاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دیکھا ، وہ رکوع و سجود زیادہ کررہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو میرے دیکھنے کو دیکھ رہا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے الگ کرلیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میانہ روی اختیار کرو، تم میانہ روی اختیار کرو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا اور فرمایا : جس نے اس دین کے بارے میں سختی کی تو یہ اس پر غالب آجائے گا۔