(۴۷۸۸) وَمِنْہُمْ أَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ : أَنَّ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ کَانَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ فَصَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی رَکْعَۃً أَوْتَرَ بِہَا ، فَقَرَأَ بِمَائَۃِ آیَۃٍ مِنَ النِّسَائِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمَیَّ حَیْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَدَمَیْہِ ، وَأَنْ أَقْرَأَ بِمَا قَرَأَ بِہِ۔ [صحیح۔ نسائی ۱۷۲۸]
(٤٧٨٨) ابو مجلز فرماتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے۔ انھوں نے عشا کی دو رکعات پڑھیں۔ پھر ایک رکعت وتر پڑھی، پھر سو رہ نساء کی سو آیات کی تلاوت کی، پھر کہنے لگے : میں ذرا بھی کمی بیشی نہ کروں گا، میں اپنے قدم وہاں رکھوں گا جہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے قدم رکھے تھے اور میں بھی وہاں سے پڑھوں گا جہاں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا تھا۔