(۴۷۹۶) وَمِنْہُمْ مُعَاذُ بْنُ الْحَارِثِ أَبُو حَلِیمَۃَ الْقَارِی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ شَہِدَ الْجِسْرَ مَعَ أَبِی عُبَیْدٍ الثَّقَفِیِّ فِی خِلاَفَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ قِیلَ لَہُ صُحْبَۃٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ قَالَ قَالَ نَافِعٌ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یُصَلِّی بِاللَّیْلِ مَا قُدِّرَ لَہُ سَجْدَتَیْنِ سَجْدَتَیْنِ ، فَإِنْ خَشِیَ الصُّبْحَ صَلَّی وَاحِدَۃً فَجَعَلَہَا آخِرَ صَلاَتِہِ، وَنَزَلَ وَسَلَّمَ فِی السَّجْدَتَیْنِ اللَّتَیْنِ فِی أَثَرِہِمَا الْوِتْرُ، ثُمَّ کَبَّرَ فَصَلَّی الْوِتْرَ۔ وَقَالَ قَالَ نَافِعٌ: سَمِعْتُ مُعَاذًا الْقَارِی یَفْعَلُ ذَلِکَ۔
(ت) تَابَعَہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ أُمَیَّۃَ وَأَیُّوبُ بْنُ مُوسَی عَنْ نَافِعٍ عَنھُمَا جَمِیعًا۔[صحیح۔ موطاء ۲۵۱]
(٤٧٩٦) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) رات کو دو دو رکعات نماز پڑھتے تھے ، جو ان کے مقدر میں ہوتی۔ اگر صبح ہونے کا ڈر ہوتا تو ایک رکعت پڑھتے، یہ ان کی نماز کے آخر میں ہوتی۔ آپ (رض) بیٹھ جاتے اور ان دو رکعات میں سلام پھیرتے، جس کے بعد وتر ہوتا تھا۔ پھر اللہ اکبر کہتے اور وتر پڑھ لیتے۔ نافع فرماتے ہیں : معاذ القاری بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔