(۴۸۲۱) وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُوتِرُ بِتِسْعِ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَکَعَاتٍ ، وَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ بَعْدَ الْوِتْرِ یَقْرَأُ فِیہِمَا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ قَامَ فَرَکَعَ ثُمَّ سَجَدَ۔قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَی الْحَدِیثَیْنِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَہُ۔ قَالَ فِیہِ قَالَ عَلْقَمَۃُ بْنُ وَقَّاصٍ : یَا أُمَّہْ کَیْفَ کَانَ یُصَلِّی الرَّکْعَتَیْنِ؟ فَذَکَرَ مَعْنَاہُمَا مَا حَدَّثَنَاہُ وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ عَنْ خَالِدٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِّینَا ہَاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ فِی حَدِیثِ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔وَفِی رِوَایَۃِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدٍ یَقْرَأُ فِیہِمَا {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} وَ {إِذَا زُلْزِلَتِ} [صحیح لغیرہ۔ معنی فی الذی قبلہ]
(٤٨٢١) علقمہ بن وقاص عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نو رکعات وتر پڑھتے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سات رکعات وتر پڑھتے اور دو رکعات بیٹھ کر وتر کے بعد پڑھتے اور ان میں قرأت کرتے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوجاتے اور رکوع و سجود کرتے۔
(ب) محمد بن عمرو کی روایت میں ہے کہ علقمہ بن وقاص نے فرمایا : اے ماں ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو رکعات کیسے پڑھتے تھے۔
(ج) حضرت حسن سعد بن ہشام سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں { قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ } وَ {إِذَا زُلْزِلَتِ } پڑھا کرتے تھے۔