(۴۸۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی التَّارِیخِ أَخْبَرَنِی أَبُو الطَّیِّبِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْکَرَابِیسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ شَادِلٍ بْنِ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ بَزِیعٍ جَارُنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ زَاذَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُوتِرُ بِتِسْعِ رَکَعَاتٍ ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ، وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ ، فَقَرَأَ فِیہِمَا الرَّحْمَنَ وَالْوَاقِعَۃَ۔
قَالَ أَنَسٌ : وَنَحْنُ نَقْرَأُ بِالسُّوَرِ الْقِصَارِ {إِذَا زُلْزِلَتِ} وَ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} وَنَحْوِہِمَا ، وَقَالَ مَرَّۃً یَقْرَأُ فِیہِنَّ۔خَالَفَ عُمَارَۃُ بْنُ زَاذَانَ فِی قِرَائَ ۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِیہِمَا سَائِرَ الرُّوَاۃِ۔ [حسن لغیرہ]
(٤٨٢٦) ثابت بنانی انس بن مالک (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نو رکعات وتر پڑھتے تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر بڑھ گئی اور جسم بھاری ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سات وتر پڑھتے اور اس کے بعد دو رکعات پڑھتے اور ان میں سورت ” الرحمن “ اور ” الواقعہ “ کی تلاوت فرماتے۔
(ب) انس فرماتے ہیں کہ ہم قصار مفصل میں سے {إِذَا زُلْزِلَتِ } اور { قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ } پڑھتے تھے۔