(۴۸۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ شَبِیبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْیَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : ((أَیُّکُمْ خَافَ أَنْ لاَ یَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ فَلْیُوتِرْ ثُمَّ لْیَرْقُدْ، وَمَنْ وَثِقَ بِقِیَامِ اللَّیْلِ فَلْیُوتِرْ مِنْ آخِرِہِ ، فَإِنَّ قِرَائَ ۃَ آخِرِ اللَّیْلِ مَحْضُورَۃٌ وَذَلِکَ أَفْضَلُ))
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ شَبِیبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۷۵۵]
(٤٨٣٨) ابو زبیر، جابر سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جس کو خوف ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار نہیں ہو سکے گا۔ وہ وتر پڑھ کر سو جائے اور جس کو پختہ یقین ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہوجائے گا تو وہ رات کے آخری حصہ میں وتر ادا کرے، کیونکہ آخری رات کی قرآت پیش کی جاتی ہے اور یہ افضل ہے۔