(۴۸۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی ہَارُونَ الْغَنَوِیِّ قَالَ سَمِعْتُ حِطَّانَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : الْوِتْرُ ثَلاَثَۃُ أَنْوَاعٍ ، فَمَنْ شَائَ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّیْلِ ، ثُمَّ إِنْ صَلَّی صَلَّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ حَتَّی یُصْبِحَ ، وَمَنْ شَائَ أَوْتَرَ ثُمَّ إِنْ صَلَّی صَلَّی رَکْعَۃً شَفْعًا لِوِتْرِہِ ، ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ، وَمَنْ شَائَ لَمْ یُوتِرْ حَتَّی یَکُونَ آخِرَ صَلاَتِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی فی مسندہ ۱۷۷۲]
(٤٨٥٠) حطان بن عبداللہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت علی (رض) سے سنا کہ وتر کی تین اقسام ہیں : جو چاہے رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھ لے۔ پھر اگر وہ نماز پڑھنا چاہے تو صبح تک دو دو رکعات پڑھتا رہے۔ اگر وہ چاہے تو ایک رکعت پڑھ کر اپنے وتر کو جوڑا بنا لے، پھر صبح تک دو دو رکعات پڑھے، پھر وتر پڑھ لے اور جو چاہے وتر نہ پڑھے اور رات کے آخری حصہ میں ادا کرلے۔