(۴۸۶۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبَانُ بْنُ أَبِی عَیَّاشٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : بِتُّ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- لأَنْظُرَ کَیْفَ یَقْنُتُ فِی وِتْرِہِ ، فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّکُوعِ ، ثُمَّ بَعَثْتُ أُمِّی أُمَّ عَبْدٍ فَقُلْتُ : بِیتِی مَعَ نِسَائِہِ ، فَانْظُرِی کَیْفَ یَقْنُتُ فِی وِتْرِہِ فَأَتَتْنِی ، فَأَخْبَرَتْنِی : أَنَّہُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّکُوعِ۔
وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِی عَیَّاشٍ۔وَمَدَارُ الْحَدِیثِ عَلَیْہِ۔(ج) وَأَبَانُ مَتْرُوکٌ۔[صحیح لغیرہ۔ الدارقطنی ۲/۳۲]
(٤٨٦٥) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رات گزاری تاکہ میں دیکھ سکھوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر میں قنوت کیسے پڑھتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھا۔ پھر میں نے اپنی ماں ام عبد کو بھیجا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عورتوں کے پاس رات گزارے اور دیکھے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے وتر میں قنوت کیسے پڑھتے ہیں ؟ جب وہ واپس آئیں تو انھوں نے کہا : کہ رکوع سے پہلے قنوت ہیں۔