(۴۹۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ قَالَ : سَأَلْنَا عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالنَّہَارِ فَقَالَ لَنَا: وَمَنْ یُطِیقُہُ؟ قُلْنَا : حَدِّثْنَاہُ نُطِیقُ مِنْہُ مَا أَطَقْنَا۔ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُمْہِلُ إِذَا صَلَّی الْفَجْرَ حَتَّی إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ۔فَکَانَ مِقْدَارُہَا مِنَ الْعَصْرِ قَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ یَفْصِلُ فِیہِمَا بِالتَّسْلِیمِ عَلَی الْمَلاَئِکَۃِ الْمُقَرَّبِینَ ، وَالنَّبِیِّینَ ، وَمَنْ تَبِعَہُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ ، ثُمَّ یُمْہِلُ حَتَّی إِذَا ارْتَفَع الضُّحَی فَکَان مِقْدَارُہَا مِنَ الظُّہْرِ قَامَ فَصَلَّی أَرْبَعًا یَفْصِلُ فِیہِنَّ بِالتَّسْلِیمِ عَلَی الْمَلاَئِکَۃِ الْمُقَرَّبِینَ ، وَالنَّبِیِّینَ ، وَمَنْ تَبِعَہُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ ، ثُمَّ یُمْہِلُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَصَلَّی أَرْبَعًا یَفْصِلُ فِیہِنَّ بِالتَّسْلِیمِ عَلَی الْمَلاَئِکَۃِ الْمُقَرَّبِینَ ، وَالنَّبِیِّینَ ، وَمَنْ تَبِعَہُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ ، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الظُّہْرِ یَفْعَلُ فِیہِمَا مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ یُصَلِّی أَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ یَفْعَلُ فِیہِنَّ مِثْلَ ذَلِکَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَشُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَإِسْرَائِیلُ بْنُ یُونُسَ وَأَبُو عَوَانَۃَ وَأَبُو الأَحْوَصِ وَزُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ وَزَادَ إِسْرَائِیلُ فِی رِوَایَتِہِ وَقَلَّمَا یُدَاوِمُ عَلَیْہَا۔ [جید۔ ترمذی ۵۹۸]
(٤٩١٤) عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دن کے نفلوں کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے ہم سے کہا : اس کی کون طاقت رکھتا ہے، ہم نے کہا : آپ ہمیں بیان کریں ہم اس کی طاقت رکھیں گے جتنا ہوسکا۔ فرمانے لگے : فجر کی نماز پڑھنے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورج کے بلند ہونے تک ٹھہر جاتے۔ اس کا اندازہ عصر کا ہے۔ پھر کھڑے ہوتے دو رکعت نماز پڑھتے، ان کے درمیان سلام کے ذریعے فاصلہ کرتے اور سلام مقربین فرشتوں، انبیا، اور ان کی کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں کے لیے سلامتی کی دعا کرتے، پھر چاشت کے وقت تک رک جاتے۔ اس کا اندازہ ظہر کا ہے۔ پھر کھڑے ہو کر چار رکعات ادا کرتے اور ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فاصلہ کرتے اور مقربین فرشتوں، انبیاء اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں کے لیے سلامتی کی دعا کرتے۔ پھر سورج ڈھلنے تک رک جاتے، پھر چار رکعات نماز ادا کرتے، ان میں سلام کے ساتھ فاصلہ کرتے اور یہ مقربین فرشتوں، انبیاء اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں کے لیے سلامتی کی دعا کرتے، پھر دو رکعت ظہر کے بعد پڑھتے، اس میں بھی اس طرح کرتے، پھر چار رکعات عصر سے پہلے پڑھتے، اس میں بھی اس طرح کرتے۔
(ب) اسرائیل کی روایت میں اضافہ ہے کہ اس پر ہمیشگی نہیں کرتے تھے۔