hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 4921

.

سنن البيهقي

4921
Sunan Al Bayhaqi
(۴۹۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی الْمَوَالِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا الاِسْتِخَارَۃَ فِی الأَمْرِ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ یَقُولُ لَنَا : ((إِذَا ہَمَّ أَحَدُکُمْ بِالأَمْرِ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ مِنْ غَیْرِ الْفَرِیضَۃِ ثُمَّ لِیَقُلْ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ وَأَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ ، وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیمِ فَإِنَّکَ تَعْلَمُ ولا أَعْلَمُ وَتَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ۔اللَّہُمَّ فَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ ہَذَا الأَمْرَ یُسَمِّیہِ بِعَیْنِہِ الَّذِی یُرِیدُ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَمَعَاشِی وَمَعَادِی وَعَاقِبَۃِ أَمْرِی فَاقْدُرْہُ لِی وَیَسِّرْہُ لِی وَبَارِکْ لِی فِیہِ۔اللَّہُمَّ وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُہُ شَرًّا لِی مِثْلَ الأَوَّلِ فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاصْرِفْنِی عَنْہُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِی بِہِ ۔أَوْ قَالَ : فِی عَاجِلِ أَمْرِی وَآجِلِہِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۰۹]
(٤٩٢١) محمد بن منکدر جابر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو کاموں کا استخارہ ایسے سکھاتے جیسے قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعات ادا کرے۔ فرض نماز کے علاوہ پھر وہ یہ دعا پڑھے :
( (اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ وَأَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ ، وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیمِ فَإِنَّکَ تَعْلَمُ ولا أَعْلَمُ وَتَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ ۔ اللَّہُمَّ فَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ ہَذَا الأَمْرَ یُسَمِّیہِ بِعَیْنِہِ الَّذِی یُرِیدُ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَمَعَاشِی وَمَعَادِی وَعَاقِبَۃِ أَمْرِی فَاقْدُرْہُ لِی وَیَسِّرْہُ لِی وَبَارِکْ لِی فِیہِ ۔ اللَّہُمَّ وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُہُ شَرًّا لِی مِثْلَ الأَوَّلِ فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاصْرِفْنِی عَنْہُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِی بِہِ ۔ أَوْ قَالَ : فِی عَاجِلِ أَمْرِی وَآجِلِہِ ) ) ۔
” اے اللہ ! میں تیرے علم کے ذریعے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے طفیل طاقت کا طلب گار ہوں اور تیرے فضل عظیم کا خواست گار ہوں تو سب کچھ جانتا ہے جبکہ میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔ بلاشبہ تو ہی طاقت کا سرچشمہ ہے اور میرے پاس کوئی طاقت نہیں۔ تو ہی غیبوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک یہ کام (اس جگہ مطلوبہ کام کا نام لے) میرے دین و دنیا اور آخرت کے انجام کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس پر مجھے قدرت عطا فرما اور اس کو میرے لیے آسان فرما اور اس میں برکت عطا فرما۔ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک میرے لیے بہتر نہیں تو اس کو مجھ سے اور مجھے اس سے دور ہٹا دے اور بھلائی جہاں بھی ہو، اس کے حصول کی قدرت و ہمت عطا فرما۔ پھر اس کے ساتھ مجھے خوش کر دے یا یوں کہے کہ جلد یا دیر سے پیش آنے والے کاموں میں۔ “