(۴۹۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الدَّقِیقِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : کَانَ رَجُلٌ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ مِمَّنْ یُصَلِّی الْقِبْلَۃَ أَبْعَدَ مَنْزِلاً مِنْ الْمَسْجِدِ مِنْہُ فَکَانَ یَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ فَقِیلَ لَہُ : لَوِ اشْتَرَیْتَ حِمَارًا فَرَکِبْتَہُ فِی الرَّمْضَائِ ، وَالظَّلْمَائِ ، فَقَالَ وَاللَّہِ مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِی یَلْزَقُ الْمَسْجِدَ۔فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِذَلِکَ۔ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْمَا یُکْتَبَ أَثَرِی ، وَخَطَایَ وَرُجُوعِی إِلَی أَہْلِی ، وَإِقْبَالِی ، وَإِدْبَارِی أَوْ کَمَا قَالَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَنْطَاکَ اللَّہُ ذَلِکَ کُلَّہُ وَأَعْطَاکَ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ))۔أَوْ کَمَا قَالَ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۶۳]
(٤٩٧٩) ابو عثمان ابی بن کعب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ایک شخص کو جانتا ہوں جو مدینہ کا رہائشی تھا۔ اس کا گھر مسجد سے کافی دور تھا، لیکن وہ نمازوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر ہوتا تھا۔ اس سے کہا گیا : اگر آپ ایک گدھا خرید لیں تو گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو کر آ جایا کریں۔ اس نے کہا : میں پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر مسجد کے ساتھ ہو۔ اس کی خبر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! پھر میرے قدموں کے نشانات کیسے لکھے جائیں گے اور میرا اپنے گھر والوں کی طرف پلٹ کر جانا اور واپس آنا یا جیسے اس نے کہا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے دور کے سفر کا اللہ تجھے اجر دے گا اور جو تیری نیت ہے سب کچھ تجھے ملے گا۔