(۵۰۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ ہُرْمُزَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : حَضَرَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ الْمَوْتُ فَقَالَ: إِنَّی مُحَدِّثُکُمْ حَدِیثًا مَا أُحَدِّثُکُمُوہُ إِلاَّ احْتِسَابًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلاَۃِ لَمْ یَرْفَعْ قَدَمَہُ الْیُمْنَی إِلاَّ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ حَسَنَۃً ، وَلَمْ یَضَعْ قَدَمَہُ الْیُسْرَی إِلاَّ حَطَّ اللَّہُ عَنْہُ سَیِّئَۃً ، فَلْیُقَرِّبْ أَوْ لِیُبَعِّدْ فَإِنْ أَتَی الْمَسْجِدَ فَصَلَّی فِی جَمَاعَۃٍ غُفِرَ لَہُ ، وَإِنْ أَتَی الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا بَعْضًا وَبَقِیَ بَعْضٌ صَلَّی مَا أَدْرَکَ وَأَتَمَّ مَا بَقِیَ کَانَ کَذَلِکَ۔فَإِنْ أَتَی الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا فَأَتَمَّ الصَّلاَۃَ کَانَ کَذَلِکَ))۔ [حسن لغیرہٖ۔ أبو داؤد ۵۶۳]
(٥٠١١) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کو موت آئی۔ وہ کہنے لگا : میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں اور صرف احتیاط کی غرض سے بیان کرنے لگا ہوں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز کی طرف نکلے تو جب وہ اپنا دایاں قدم اٹھاتا ہے تو اس کے عوض اللہ نیکی لکھ دیتے ہیں اور جب بایاں قدم اٹھاتا ہے تو اس کے بدلے ایک برائی ختم کردی جاتی ہے۔ اگرچہ وہ قدم قریب قریب رکھے یا دور دور اور اگر وہ مسجد میں آ کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے تو اس کو معاف کردیا جاتا ہے۔ اگر وہ مسجد آتا ہے اور کچھ حصہ نماز کا پڑھا جا چکا اور کچھ باقی تھا، پھر اس نے جتنی نماز پائی پڑھ لی اور باقی پوری کرلی تو وہ انہی کی طرح ہے اور اگر وہ مسجد آتا ہے اور انھوں نے نماز پڑھ لی ہے تو وہ اپنی پوری نماز پڑھ لے۔